” میں عظیم فاتح ہوں۔میری رگوں میں بہادروں کا خون دوڑ رہا ہے‘ میں نے دوبار آمریت کا کامیابی سے مقابلہ کیا‘ تیسرے معرکے میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کا حکم پا چکا ہو ں لیکن زندگی اور موت

وہ لوگ جو کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں‘کیا ہمارے ہیرو نہیں؟کیا ان کی قربا نیاں تاریخ کا حصہ نہیں بن سکتیں۔
بھگت سنگھ نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی لیکن آزادی کے بعد اس

نذیر احمد وٹو ایک بے لوث سماجی رہنما ہے‘لو ک دانش کا پروردہ۔ اس نے کسی بڑے ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن پھر بھی وہ زندگی کی حقیقت کو سمجھ گیا۔ زندگی کے معنی آشکار ہوئے تو وہ

آپریشن بلیک تھنڈر‘ آپریشن شیر دل‘ آپریشن راہِ حق‘ آپریشن راہِ راست‘ آپریشن صراطِ مستقیم‘ آپریشن خیبر‘ آپریشن راہِ نجات‘ آپریشن ضربِ عضب اور اب آپریشن ردالفساد……
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب

تقریب کا آغاز کلام ِ پاک سے ہوا اور پھرقومی ترانہ۔ دل پہ دستک سی ہونے لگی۔ بارود‘ دھماکے‘ دھواں‘ خون۔ یہ کل کا وزیرستان تھا۔ آج ایک اور منظر تھا۔ مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا اور ایک ایک

یہ دو کالم وزیرستان کے بارے میں ہیں۔
شمالی وزیرستان۔کچھ روز پہلے یہ جگہ دہشت اور خوف کی علامت تھی اور آج ہم وہاں ایسے گھوم رہے تھے جیسے لاہور‘ اسلام آباد‘ پشاور یا کراچی میں ہوں۔ زندگی‘ ہل چل‘

سوشل میڈیا واقعی ایک انقلاب ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بھکر بار کے دوست محمد کی کہانی یوں زبانِ زدِ عام ہوگی۔ چند ہی روز میں سوشل میڈیا نے یہ کرشمہ بھی کر دکھایا۔ سیکڑوں

شاہ پور کسی زمانے میں ضلع ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ سرگودہا کی ایک تحصیل ہے۔ شاہ پور سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر‘ دریائے جہلم کے نزدیک‘ بکھر بار نامی ایک قصبہ ہے جس کی آبادی تیس ہزار

آج 29جنوری ہے۔
آج فرخ کی سال گرہ ہے۔ میرا سارابنک اکاؤنٹ کسی بھی ایسے تحفے کے لیے کم ہے جو اس کے قابل ہو۔ شفق‘ دھنک‘ مہتاب‘ گھٹائیں‘ تارے‘ نغمے‘ بجلی‘ پھول۔یہ سب اس کے لیے ہیں۔میں یہ سب

20‘ جنوری باچا خان کا یوم وفات ہے۔
باچا خان ہماری تاریخ کا ایسا کردارہیں جنھیں سمجھنے میں بہت سے لوگوں نے بھول کی۔ کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر اور کچھ لوگوں نے انجانے میں۔ باچا خان زندگی بھر
